19 جون 2013 - 19:30
اردن میں بین الاقوامی فوجی مشقیں ختم

ایجرڈ لائن میں نامی بین الاقوامی فوجی مشقیں دس دن تک جاری رہنے کے بعد گذشتہ روز اردن میں ختم ہوگئیں ۔

ابنا: ایجرڈ لائن میں نامی بین الاقوامی فوجی مشقیں انیس ملکوں کے آٹھ ہزار فوجیوں کی شرکت سے نو جون سے اردن میں شروع ہوئی تھیں ۔ ان بری بحری اور فضائی فوجی مشقوں میں دنیا کے مختلف ممالک منجملہ سعودی عرب ، عراق ، لبنان ، بحرین ، متحدہ عرب امارات ، یمن ، قطر ، مصر ، پاکستان ، اٹلی ، برطانیہ ، فرانس ، کینڈا ، ترکی ، پولینڈ ، جمہوریہ چک اور امریکہ کے فوجی شریک ہوئے ۔ایجرڈ لائن نامی فوجی مشقیں بظاہر مغرب کی جانب سے پیش کیئے جانے والے اس دعوے کے بعد کہ شام کی حکومت خطرہ ہے ، اردن کی دفاعی توانائیوں میں اضافے کے مقصد سے منعقد ہوئی ہیں ۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اردن میں دنیا کے مختلف ملکوں کے فوجیوں کی موجودگی میں اس طرح کی فوجی مشقیں منعقد ہورہی ہیں ۔ اردن میں ہونے والی ان میں امریکہ کی سینٹرل آرمی کمانڈ کے چار ہزار پانچ سو فوجی شرکت کررہے ہیں ۔ یہ فوجی مشقیں غیر روائیتی کاروائیوں  منجملہ علیحدگی پسندوں کے خلاف مہم ، سرحدوں کی حفاظت ، دھشتگردی کے خلاف مقابلہ اور فضائی مشقوں کے دائرے میں منعقد ہوئی ہیں ۔ علاقائی ذرائع ابلاغ شام میں جاری بحران کو دیکھتے ہوئے اور اردن میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور اس ملک میں پیٹریاٹ میزائیلوں کی تنصیب کو ایجرڈ لائن نامی فوجی مشقوں کے انعقاد کے اصلی اھداف قرار دے رہے ہیں ۔ اس درمیان اردن میں کمونیسٹوں کی یونین نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ان مشقوں کا شام میں جاری جنگ سے گہرا تعلق ہے ۔ اردن کے اس گروہ نے کہا ہے کہ شام میں جنگ کے شعلے وہی ممالک بڑھکا رہے ہیں کہ جو ان فوجی مشقوں میں شریک ہیں ۔ اردن کے کمونیسٹوں کی یونین کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید آیا ہے کہ ایجرڈ لائن نامی فوجی مشقیں اردن میں  پیٹریاٹ میزائیل کی تنصیب کے لئے اسپیس قائم کرنے اور امریکہ کے فوجیوں کو اس ملک میں باقی رکھنے کے بہانے منعقد کی گئی ہیں ۔ اور ان مشقوں میں شریک افواج سے یہ چاہا گیا کہ وہ یہ کہیں کہ صہیونی دشمن سے ہٹکر بھی فرضی دشمن ، علاقے خاصطور پر اردن میں ہے ۔ عرب تجزیہ نگاروں نے ان فوجی مشقوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان فوجی مشقوں میں امریکی افواج کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایجرڈ لائن نامی فوجی مشقیں اردن سے زیادہ علاقے میں امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام پائی ہیں اور اردن کے بادشاہ ملک عبداللہ علاقے میں واشنگٹن کے آلہ کار کا کام انجام دے رہے ہیں ۔ اردن کی حکومت پر تنقید کرنے والے بھی اس ملک کے قرضوں کہ جو بیس ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں کو دیکھتے ہوئے ، اس سوال کو پیش کررہے ہیں اردن نے ان فوجی مشقوں کے اخراجات کو کہاں سے پورا کیا ہے ؟ تنقید کرنے والوں نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فوجی مشقوں کے اخراجات امریکہ کے ذریعے پورے کیئے گیے ہیں ، ایجرڈ لائن نامی بین الاقوامی فوجی مشقوں کو علاقے میں امریکہ کی مشکوک سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا ہے ۔ روس میں مشرق شناسی اکیڈمی کے ماہر ولائی میر ساژ ین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایجرڈ لائن نامی فوجی مشقوں میں شریک ممالک سب کے سب شام مخالف کیمپ کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے ان مشقوں کے انعقاد کے پس پردہ اھداف کی بابت خبردار کیا ہے ۔ یہ انتباہ ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے بھی ایجرڈ لائن فوجی مشقوں کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اردن میں اپنے پیٹریاٹ میزائیل اور ایف سولہ جنگی طیاروں کو باقی رکھنے کا اعلان کیا ہے اور یہ وہ موضوع کہ جس پر اردن کے عوام نے کئی بار احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے ہیں ۔      ......./169